ابھی مہاگٹھ بندھن ختم نہیں ہواہے،فرقہ پرستوں کے خلاف لڑائی جاری رہے گی:سی پی آئی
نئی دہلی،31؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بہارمیں مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے سے ناراض جے ڈی یوکے سابق صدر اور پارٹی لیڈر شرد یادو پہلی بارمیڈیاکے سامنے آئے۔شردیادونے کہاکہ بہار کی عوام نے ہمیں بی جے پی کے ساتھ آنے کے لیے مینڈیٹ نہیں دیاتھا۔انہوں نے کہا کہ اتحاد ٹوٹنے کا انہیں افسوس ہے۔بہار میں لالو یادو کی آر جے ڈی کا ساتھ چھوڑکر نتیش کمارنے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنالی ہے جس کے بعد سے پارٹی کے سینئر لیڈر شرد یادو ناراض بتائے جا رہے ہیں۔اتحادٹوٹنے کے بعدجے ڈی یو میں بھی پھوٹ کی خبریں سامنے آئی تھیں۔پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ علی انور بھی نتیش کمارکے فیصلے سے ناراض ہیں۔انہوں نے مہاگٹھ بندھن خرابی کو قومی آفت بتایا تھا۔ادھر اتوار کو تمل ناڈو سے راجیہ سبھا کے ایم پی اور سی پی آئی کے لیڈر ڈی راجہ نے بھی شردیادوسے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ڈی راجہ سے پہلے سی پی ایم کے رہنماسیتا رام یچوری بھی شردیادوسے ملاقات کرچکے ہیں۔شرد یادو سے ملاقات کے بعد ڈی راجہ نے کہا تھا کہ وہ نتیش کمار کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق راجہ نے شرد یادو سے بی جے پی اور نتیش کمار کے خلاف ڈیموکریٹک فرنٹ کے ساتھ کھڑے رہنے کی بات بھی کہی،ساتھ ہی جے ڈی یوکے آرجے ڈی،کانگریس سے الگ ہونے کے بعد مہاگٹھ بندھن کے مستقبل پر بھی بحث کی گئی تھی۔انہوں نے ملاقات کے بعد کہا کہ ابھی مہاگٹھ بندھن ختم نہیں ہوا ہے اور بی جے پی اور فرقہ واریت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔بہارمیں اقتدار کے الٹ پھیر کے بعد کئی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے حال ہی میں شرد یادو ملاقات کی ہے۔وہیں بی جے پی اور جے ڈی یو کی جانب سے بھی روٹھے شرد یادو کو منانے کی کوشش جاری ہے۔اتنا ہی نہیں سوشل میڈیاپر شرد یادو فصل انشورنس کی منصوبہ بندی کو لے کر مودی حکومت پر حملہ کر چکے ہیں۔نتیش کمار کی جانب سے بدعنوانی کوایک بڑی وجہ بتاتے ہوئے لالو یادو کے ساتھ اتحاد توڑنے کے بعد شرد یادو نے سوشل میڈیا پر کالے دھن اور پانامہ پیپرس کولے کرمودی حکومت اوربی جے پی پر نشانہ لگایا تھا۔شرد یادو نے کہا کہ حکمراں جماعت نے کالے دھن کو واپس لانے کاوعدہ کیا جو پورا نہیں ہوا اور نہ ہی پاناماپیپرس میں سامنے آئے ہندوستان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے۔